Name *Gender *SelectMaleFemaleMode *SelectOnlineOn-CampusEmail *Contact * Register Now Registration Successful! Thank you for registering. Which Dawrah/Workshop did you attend?منتخب کریںDawrah 1sdgfdg *★★★★★ Submit Feedback Thank you! Your feedback has been received. Please log in with a staff account to view this dashboard. Verify Your Registration Select how you attended, then enter your details to begin. I attended Online I attended On-Campus Enter your details to verify Verify Go Back Enter your details to verify Verify Go Back /35 good try Quiz - Dawrah Ilmiyyah (الأسبوع العلمي) Dawrah Ilmiyyah (Ilm Week): Exploring Foundational Islamic Subjects and Contemporary Challenges 1 / 35 1. الحاد کو اس کے اسباب کے اعتبار سے بنیادی طور پر ______طرح سے تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ A. پانچ (5) B. آٹھ(8) C. تین(3) D. دو(2) 2 / 35 2. اسلامک فیمینزم الحاد کی اس قسم سے تعلق رکھتا ہے A. اسلامک فیمینیزم کا الحاد سے کوئی تعلق نہیں ہے. B. اسلامک فیمینزم کا تعلق الإلحاد العلمي التجريبي سے ہے. C. اسلامک فیمینزم کا تعلق الإلحاد العاطفي سے ہے. D. اسلامک فیمینزم کا تعلق الإلحاد الفلسفي العقلي سے ہے. 3 / 35 3. شبہہ اور وسوسہ کے درمیان بنیادی فرق اور ان کے علاج کے حوالے سے درست انتخاب کریں: A. وسوسہ ہمیشہ عقل کے تابع ہوتا ہے اس لیے اسے دلیل سے حل کیا جاتا ہے، جبکہ شبہہ کا تعلق صرف دل سے ہے جسے صرف اعراض کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ B. وسوسہ دلیلِ قاطع اور برہان (دلیل) کا محتاج ہوتا ہے جبکہ شبہہ صرف تعوذ، اعراض اور نظر انداز کرنے سے ختم ہو جاتا ہے۔ C. شبہہ اور وسوسہ دونوں کا ایک ہی علاج ہے کہ انسان انہیں نظر انداز کر دے اور تعوذ پڑھ لے، کیونکہ دونوں ہی شیطانی خیالات ہوتے ہیں۔ D. وسوسہ تعوذ، اعراض اور نظر انداز کرنے سے ختم ہو جاتا ہے، جبکہ شبہہ اپنے خاتمے کے لیے دلیلِ قاطع اور واضح برہان کا محتاج ہوتا ہے۔ 4 / 35 4. کتاب "مفتاح السنۃ" (از محمد عبد العزیز الخولی رحمہ اللہ) کا موضوع کیا ہے؟ A. کتاب "مفتاح السنۃ" کا بنیادی موضوع حدیثِ نبوی کی فقہی تشریح ہے. B. کتاب "مفتاح السنۃ" کا موضوع سنتِ رسول ﷺ کی اہمیت، اس کی ابتدا اور تدوینِ السنۃ کے موضوع پر مستشرقین کے اعتراضات کا جواب دینا ہے۔ C. کتاب "مفتاح السنۃ" کا موضوع کتبِ ستہ پر مستشرقین کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کا جواب دینا ہے۔ D. کتاب "مفتاح السنۃ" کا موضوع صرف قرآن اور حدیث کے درمیان پائے جانے والے ظاہری تضاد کو دور کرنا ہے. 5 / 35 5. شعر مکمل کریں: اعْلَــــمْ بِــأَنَّ الـعِـلْــــمَ بِـالتَّعَلُّمِ ____________________؟ A. اعْلَــــمْ بِــأَنَّ الـعِـلْــــمَ بِـالتَّعَلُّمِ وَالعِـلْــــمُ قَـــدْ يُرْزَقُــــهُ الصَّغِيـرُ B. اعْلَــــمْ بِــأَنَّ الـعِـلْــــمَ بِـالتَّعَلُّمِ وَالحِفْــــظِ وَالإِتْـقَــــانِ وَالتَّفَهُّمِ C. اعْلَــــمْ بِــأَنَّ الـعِـلْــــمَ بِـالتَّعَلُّمِ وَالعِـلْـمُ بِــالـفَهْمِ وَبِالـمُـــــذَاكَرَهْ 6 / 35 6. من ضوابط السور المدني A. فیھا ذكر المنافقين B. فیھا یأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ C. جمیع ما ذکر 7 / 35 7. کلمہ "الحاد" كا صحیح اصطلاحی معنی ہے A. المیل عن الظوابط السلفیة B. الميل عن العقائد الاسلامیة C. المیل عن الحق D. المیل عن السنة 8 / 35 8. المعنی الاصطلاحی لکلمۃ ـــ"الوحی"ھو: A. الإعلام الخفي السريع،أو إلقاء علم في خفاء وسرعة B. إعلام الله أنبياءه بما يريد أن يبلغه إليهم من شرع أو كتاب بغير واسطة C. إعلام الله أنبياءه بما يريد أن يبلغه إليهم من شرع أو كتاب بواسطة أو بغير واسطة D. إعلام الله خلقہ بما يريد أن يبلغه إليه من شرع أو كتاب بواسطة أو بغير واسطة 9 / 35 9. امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے _______ كي یہ تعریف بیان کی ہے؟ ________ تَرْكُ الرَّغْبَةِ فِي مَا لَا يَنْتفَعُ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ۔ A. الزُّهْدُ تَرْكُ الرَّغْبَةِ فِي مَا لَا يَنْتفَعُ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ B. الوَرْعٌ تَرْكُ الرَّغْبَةِ فِي مَا لَا يَنْفَعُ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ C. التقوي تَرْكُ الرَّغْبَةِ فِي مَا لَا يَنْفَعُ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ D. الإخْلَاصُ تَرْكُ الرَّغْبَةِ فِي مَا لَا يَنْفَعُ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ 10 / 35 10. وہ صحابی جنہوں نے علم کی پیاس کے رہتے اپنے وطن واپسی کا سفر نہیں باندھا اورایک سال عرصہ تک رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی اور ان سے "الْبِر وَالْإِثْم" سے متعلق سوال کیا ان کا نام ہے: A. الْمُغِيرَة بْن شُعْبَةَ - رضي الله عنه - B. النَوَّاس بْن سمْعَانَ - رضي الله عنه - C. مَحْمُود بْن لَبِيد - رضي الله عنه - 11 / 35 11. کتب الاطراف کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ A. صرف صحیحین (بخاری و مسلم) کی احادیث کو حروفِ تہجی کی ترتیب سے جمع کرنا۔ B. احادیث میں موجود قصے اور واقعات بیان کرنا تاکہ عام لوگ اس سے نصیحت حاصل کر سکیں۔ C. احادیث کی تمام اسانید کو ایک جگہ جمع کرنا تاکہ باحث کے لیے ایک ہی حدیث کی مختلف سندوں کو دیکھنا آسان ہو جائے۔ D. احادیث کے صرف آخری حصے (اطراف) کو جمع کرنا تاکہ ان سے نئے مسائل کا استنباط کیا جا سکے۔ 12 / 35 12. المراد من کلمۃ "الـمُنَاظَرَهْ" فی الشعر الآتی ھو: وَالعِـلْـمُ بِــالـفَهْمِ وَبِالـمُـــــذَاكَرَهْ وَالدَّرْسِ وَالفِكْــــرَةِ وَالـمُنَاظَرَهْ A. البحث فی العلم مع الغیر لتلقی الصواب B. البحث فی العلم مع الغیر لتلقی فائدة ما C. البحث فی العلم مع الغیر للغلبۃ العلمیۃ 13 / 35 13. علوم القرآن کی تدین کےکون سے مرحلہ میں اعتراضات کے جوابات مرتب کئے گئے؟ A. دوسرے مرحلہ میں B. تیسرے مرحلہ میں C. پہلے مرحلہ میں 14 / 35 14. امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "ورع" کی تعریف کی ہے؟ A. ورع یہ ہے کہ ہر اس چیز کو چھوڑ دیا جائے جو آخرت میں فائدہ نہ دے۔ B. ورع یہ ہے کہ ہر اس مباح چیز کو اپنا لیا جائے جس کے بارے میں امید ہو کہ وہ آخرت میں نفع دے گی۔ C. ورع یہ ہے کہ صرف محرمات کو چھوڑ دیا جائے تاکہ انسان دین سے مکمل جڑ جائے۔ D. ورع یہ ہے کہ ہر اس چیز کو چھوڑ دیا جائے جس کے بارے میں یہ خوف ہو کہ وہ آخرت میں نقصان دے گی۔ 15 / 35 15. حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے کلمۃ "ادب" كی تعریف یوں کی ہے: A. حقيقةُ الأدبِ هي اسْتِعْمَالُ الخُلُقِ الجَمِيلِ B. حقيقةُ الأدبِ هي التَّظَاهُرُ بالخُلُقِ الجَمِيلِ C. حقيقةُ الأدبِ هي مَعْرِفَةُ الخُلُقِ الجَمِيلِ D. حقيقةُ الأدبِ هي تَحْسِينُ الخُلُقِ الجَمِيلِ 16 / 35 16. آیت مبارکہ: "اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ" دلالت کرتی ہے کہ ________ کی حفاظت کا ذمہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود لیا ہے۔ A. قرآن پاک اس کی تمام قراءتیں B. قرآن اور حدیث قدسی C. قرآن پاک کے الفاظ اور معانی D. قرآن وحدیث 17 / 35 17. يُفِيــــدُهُ بِـالقَلْـــــــبِ لَا بِنَــــــاظِرِهْ لَـــيْسَ بِمُـضْـطَـــــرٍّ إِلَــــى قَمَـاطِرِهْ مذکورہ شعر کی صحیح تشریح کون سی ہے؟ A. اللہ تعالیٰ نے بعض طلباء کو یہ صلاحیت دی ہوتی ہے کہ علم ان کے دلوں میں اس طرح محفوظ رہتا ہے کہ انہیں اپنی کتابوں اور کاپیوں کی طرف دوبارہ دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ وہ دل کی بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ B. طالب علم کا دل اسکو جو فائدہ پہنچاتا ہے ویسا فائدہ اسکی نظروبصارت اسکو نہیں پہنچا سکتی اسی لئے طالب علم کو چاہئے کہ وہ علم حاصل کرتے وقت لکھنے سے زیادہ سمجھنےپر توجہ رکھے۔ C. اللہ تعالیٰ نے بعض طلباء کو یہ صلاحیت دی ہوتی ہے کہ وہ علم حاصل کرتے وقت لکھنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں تاکہ ان کا علم کتابوں اور کاپیوں میں محفوظ رہے اور وہ جب چاہیں ان کی طرف دیکھ کر فائدہ اٹھا سکیں۔ 18 / 35 18. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ، وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ (أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ) صلہ رحمی کے تناظر میں سلف صالحین نے ایک شخص کی ______ صفات بیان کی ہیں جس سے کوئی باہر نہیں ہو سکتا، یا تو بندہ _________۔ A. صلہ رحمی کے تناظر میں سلف صالحین نے ایک شخص کی تین صفات بیان کی ہیں جس سے کوئی باہر نہیں ہو سکتا، یا تو بندہ صالح ہو گا، یا فاسق ہو گا یا پھر منافق۔ B. صلہ رحمی کے تناظر میں سلف صالحین نے ایک شخص کی تین صفات بیان کی ہیں جس سے کوئی باہر نہیں ہو سکتا، یا تو بندہ مقاطع ہو گا، یا مکافی ہو گا یا پھر واصل۔ C. صلہ رحمی کے تناظر میں سلف صالحین نے ایک شخص کی دو صفات بیان کی ہیں جس سے کوئی باہر نہیں ہو سکتا، یا تو بندہ واصل ہو گا یا قاطع۔ D. صلہ رحمی کے تناظر میں سلف صالحین نے ایک شخص کی تین صفات بیان کی ہیں جس سے کوئی باہر نہیں ہو سکتا، یا تو بندہ مقاطع ہو گا، یا مکافی۔ 19 / 35 19. وَرُبَّ ذِي حِـرْصٍ شَــدِيدِ الـحُبِّ لِلْـعِـلْــــمِ وَالــذِّكْـرِ بَـلِيــدِ القَلْبِ مُعَجَّـزٍ فِـــي الـحِـفْـظِ وَالرِّوَايَـهْ لَيْسَـــتْ لَــــهُ عَمَّـــنْ رَوَى حِكَايَهْ مذکورہ شعر میں موجود طالب علم کی صفت "بَلِيدِ القَلْبِ" سے کیا مراد ہے؟ A. اس سے مراد وہ طالب علم ہے جو ذہانت کی کمی یا کند ذہنی کی وجہ سے بات کو جلد سمجھنے اور اسے یاد رکھنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ B. اس سے مراد وہ طالب علم ہے جس کا دل علم کی محبت سے خالی ہو اور وہ جان بوجھ کر یاد کرنے اور سیکھنے سے جی چراتا ہو۔ C. اس سے مراد وہ طالب علم ہے جو دل کا صاف نہ ہو اور علم حاصل کرنے کے باوجود اسے دوسروں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہو۔ 20 / 35 20. وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طلق. (أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ) حدیث مبارکہ میں موجود لفظ "طلق" کی معنی کے اعتبار سے صحیح قرائت وتلفظ ہے؟ A. طُلُقٍ B. مذکورہ تمام قرائت درست ہیں. C. طَلْقٍ D. طَلَقٍ 21 / 35 21. کلمۃ إسراف اور تبزیر میں بنیادی فرق ہے: A. إسراف: مال کی کثرت ہوتے ہوئے حد سے زیادہ خرچ کرنا۔ تبزیر: مال موجود نہ ہونے کے باوجود ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا۔ B. كوئی فرق نہیں. C. إسراف: مال موجود نہ ہونے کے باوجود ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا۔ تبزیر: مال کی کثرت ہوتے ہوئے حد سے زیادہ خرچ کرنا۔ 22 / 35 22. فَإِنَّـمَــــا الـمَـــــرْءُ بِـأَصْـــــغَرَيْهِ لَـــيْــــسَ بِرِجْلَـيْـــــهِ وَلَا يَدَيْـــــهِ متن کے مذکور شعر میں بِـأَصْـــــغَرَيْهِ سے مراد ہے: A. انسان کا ادب اور اخلاق B. انسان کا دل اور زبان C. انسان کا دل اور دماغ 23 / 35 23. علوم القرآن کی حفاظت کا پہلا مرحلہ مشتمل تھا؟ A. تدوین و تالیف B. حفظ صدر C. مختلف جگہوں پر علوم کا لکھا جانا 24 / 35 24. حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی معروف کتاب بلوغ المرام میں موجود "کتاب الجامع" کے ابواب کی تعداد ہے: A. دس (10) B. پانچ (5) C. چھ (6) D. دو (2) 25 / 35 25. جدید الحاد(New Atheism) کی نمایاں خصوصیات کے حوالے سے درست انتخاب کریں: A. جدید الحاد دراصل قدیم دہریت کی ہی ایک شکل ہے جو بس مذہب کواہم نہیں سمجھتی ہے اور میڈیا وسائنسی کے ذریعہ اپنے علم کے پھیلاؤ میں لگے رہتے ہیں۔ B. جدید الحاد کا بنیادی مقصد تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا،اور صرف مذاھبی حلقوں میں محدود رہ کر سائنسی تجربات کو ثابت کرنا ہے۔ C. جدید الحاد کی خصوصیات میں سے ہے تمام ادیان سے شدید عداوت، عوامی سطح پر منظم پروپیگنڈا اور سائنس کو علم کا واحد اور حتمی ذریعہ قرار دینا۔ D. جدید الحاد کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف ایک مخصوص مذھب کی مخالفت کرتا ہے اور عوامی سطح پر خطاب کرنے کے بجائے صرف تعلیمی اداروں میں خاموشی سے اپنے نظریات کی تبلیغ کرتا ہے۔ 26 / 35 26. الإلحاد العلمي التجريبي سے مراد ہے: A. ایسا الحاد جو صرف علمی تجارب پر مبنی ہو۔ B. وہ الحاد جس میں علوم وفنون اور ذاتی تجربوں کو زیر بحث لایا جائے C. وہ الحاد جو سائسنی علوم اور تجربوں سے ثابت کیا جائے D. وہ الحاد جو تجربہ سے ثابت ہو اور تمام علوم اس پر دلالت کرتے ہوں 27 / 35 27. نزول قران کی بنیادی طور پر تقسیم کی جاتی ہے A. دو B. تین C. پانچ D. ایک 28 / 35 28. ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:سب سے آخری آیت جو نازل ہوئی وہ تھی: A. الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي B. فَسَبِّـحْ بِحَـمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ اِنَّهٝ كَانَ تَوَّابًا C. وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ 29 / 35 29. متن بھجۃ الطلب فی آداب الطلب میں اس منظومہ کی نسبت دو شخصیات کی طرف گئی ہے جن کے نام ہیں: A. ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما B. خلیفہ بنو امیہ مامون الرشید اور حسن بن زیاد اللولوئی C. شیخ صالح العصیمی اور مامون 30 / 35 30. متن "بھجۃ الطلب في آداب الطلب" کے اشعار کی تعداد ہے: A. 15 B. 20 C. 40 D. 35 31 / 35 31. رسول اللہ ﷺ کا فرمان گرامی ہے: انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ. حدیث مبارکہ میں جملہ "فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ" کا صحیح مفھوم ہے۔ A. یہ طریقہ اس لیے بہتر ہے تاکہ تم اللہ کی دی گئی نعمتوں کو لوگوں پرعیاں نہ کرو. B. یہ طریقہ اس لیے موزوں ہے تاکہ تم اللہ کی نعمتوں کو نہ بھولو اور انہیں یاد رکھو. C. یہ طریقہ اس لیے زیادہ موثر اور لائق ہے کہ تم اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو حقیر یا معمولی نہ سمجھو. 32 / 35 32. من فوائد نزول القرآن منجمًا A. تثبيت فؤاد الرسول ﷺ. B. جمیع ما ذکر C. تيسير حفظه وفهمه والعمل به D. التدرج في التشريع 33 / 35 33. متن بھجۃ الطلب فی آداب الطلب کے کون سے اشعار فضیلۃ الشیخ صالح العصیمی سےاضافہ کردہ ہیں؟ A. اَلْحَمْدُ للهِ لَهُ الإِحْكَـامُ ثُمَّ الصَّلَاةُ بَعْدُ وَالسَّلَامُ عَلَـى مُـحَمَّـدٍ رَسُـولِ اللهِ وَآلِــهِ طُــــرًّا بِـــلَا تَنَـاهِي B. وَلَوْ يَكُونُ الْقَوْلُ عِنْدَ النَّاسِ مِنْ فِضَّةٍ بَيْضَا بِلا الْتِبَاسِ إِذاً لَكَانَ الصَّمْتُ مِنْ عَيْنِ الذَّهَبْ فَافْهَمْ هَدَاكَ اللهُ آدَابَ الطَّلَبْ 34 / 35 34. حدیث مبارکہ یہ دلالت کرتی ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر صرف اور صرف چھ ہی حقوق ہیں۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ۔۔۔ A. غلط B. صحیح 35 / 35 35. اشعار میں موجود خالی جگہ صحیح الفاظ کے ساتھ پرکریں: وَلَوْ يَكُونُ الْقَوْلُ عِنْدَ النَّاسِ مِنْ _______ بَيْضَا بِلا الْتِبَاسِ إِذاً لَكَانَ الصَّمْتُ مِنْ عَيْنِ _______ فَافْهَمْ هَدَاكَ اللهُ آدَابَ الطَّلَبْ A. وَلَوْ يَكُونُ الْقَوْلُ عِنْدَ النَّاسِ مِنْ فِضَّةٍ بَيْضَا بِلا الْتِبَاسِ إِذاً لَكَانَ الصَّمْتُ مِنْ عَيْنِ الذَّهَبْ فَافْهَمْ هَدَاكَ اللهُ آدَابَ الطَّلَبْ B. وَلَوْ يَكُونُ الْقَوْلُ عِنْدَ النَّاسِ مِنْ لونِِ بَيْضَا بِلا الْتِبَاسِ إِذاً لَكَانَ الصَّمْتُ مِنْ عَيْنِ الأسودِ فَافْهَمْ هَدَاكَ اللهُ آدَابَ الطَّلَبْ C. وَلَوْ يَكُونُ الْقَوْلُ عِنْدَ النَّاسِ مِنْ المَردودِ بِلا الْتِبَاسِ إِذاً لَكَانَ الصَّمْتُ مِنْ المَطْلُوبِ فَافْهَمْ هَدَاكَ اللهُ آدَابَ الطَّلَبْ Your score is 0% Download Certificate